نئی دہلی2اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)کشن گنج سے ممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے آج پارلیمنٹ کی بحث میں حصہ لیتے ہوئے بہارکے سیمانچل میں سیلاب کی شکل میں آنے والی ہمہ گیر تباہی کی جانب حکومت کی خاص توجہ مبذول کرائی۔انھوں نے اپنی تقریرمیں مرکزی حکومت کے سامنے کشن گنج، بھاگلپور، ارریہ، پورنیہ، کٹیہار،مدھے پورہ اور دربھنگہ کے علاقوں میں مہانندا،کوسی اور گنگاوغیرہ مختلف ندیوں کے کٹاؤکی وجہ سے ہونے والی بھیانک بربادی کاذکرکرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ فوری طورپرمتاثرین کی بازآبادکاری کے انتظامات کیے جائیں ۔مولاناقاسمی نے کہاکہ حالیہ سیلاب میں بہارکے 443 پنچایتوں کے1448گاؤں کی تقریباً سترہ لاکھ آبادی کو شدیدمالی خساروں کا سامناکرناپڑاہے اور کئی جانیں بھی ہلاک ہوگئی ہیں،جبکہ پچاس لاکھ ہیکٹرکی فصل تباہ و بربادہوچکی ہے اوراس کی وجہ سے خطے کے لوگ سخت کش مکش اور بدحالی کے شکارہوگئے ہیں۔خاص طورپرکشن گنج میں آنے والے تباہ کن سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے ممبرپارلیمنٹ نے کہاکہ حلقے کے کم ازکم پانچ سوبلاک بری طرح متاثرہوئے ہیں اورلائف لائن کہی جانے والی کشن گنج بہادرگنج سڑک اور این ایچ327ای پرواقع پل سیلاب کی شدت کی وجہ سے مخدوش ہوگیاہے اوراس کی وجہ سے ایک بہت بڑی آبادی کے لیے مسلسل خطرہ پیداہوگیاہے۔مولانا قاسمی نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ ان حالات کے پیشِ نظرکشن گنج میں بہنے والی تباہ کن ندی پرسرکاربندبندھوائے تاکہ لاکھوں کی آبادی کوجوہرسال جان و مال کی تباہی سے گزرناپڑتاہے اس سے نجات ملے۔